17 ستمبر 2012 - 19:30

پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ سیلاب اور شدید بارشوں کے باعث 262 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد افراد زخمی ہوگئے –

ابنا: این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق 51 ہزار مکانات کو نقصان پہونچا ہے جبکہ 19 ہزار گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں – رپورٹ کے مطابق سب سے بڑا جانی نقصان صوبۂ سندھ میں ہوا جہان 106 افراد لقمۂ اجل بن گئے -
دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے –
اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق  پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے مختلف شہروں میں طوفانی بارش ہوئی جسکے باعث  مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا اور کئی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش اوکاڑہ میں 116ملی میٹرریکارڈ کی گئی۔ قصور کے علاقے کنگن پور میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور تین  زخمی ہوئے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام۔
 کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی طوفانی بارش کے بعد کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاعات ہیں جبکہ لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہ وادی نیلم اور ایبٹ آباد روڈ ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے ۔
ادھر سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث بلوچستان کے علاقے جعفرآباد، نصیرآباد اور دیگر علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود متاثرین سلایب کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں اور بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی اور غذائی اجناس کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور متاثرین مجبوراً گندے جوہڑوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں جس سے جلد اور پیٹ کی کئی بیماریاں پھیل گئی ہیں ۔ سیلاب اور طوفانی بارشوں کے باعث جعفرآباد، ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، قلعہ سیف اللہ سمیت صوبے کے نو اضلاع میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں ۔ ہزاروں متاثرہ خاندانوں تک کئی روز گزرنے کے باوجود ابھی تک امداد نہ پہنچ سکی۔

.....

/169